Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
297 - 479
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کاایک اور پُر سوز کلام سنایا ۔جسے سن کر ان پر رِقَّت طاری ہو گئی۔ میں نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا :’’ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ تمہیں زمانے کے مقبول ولی کا دامن ملا ہے، الیاس قادری صاحب اپنے مریدوں کیلئے بہت دعائیں فرماتے ہیں۔ اپنے پیر ومرشد کی بارگاہ سے کبھی نظر ہٹا کر اِدھراُدھر مت دیکھنا ، ان کی نظر کرم تم پر ہو گئی تو تمہاری بگڑی بن جائے گی ۔‘‘ میں نے بے ساختہ ان کے ہاتھ چوم لئے او ر پوچھا: ’’آپ کو ن ہیں ؟ ‘‘ پہلے تو انہوں نے ٹالا مگر میرے بے حد اصرار پر انہوں نے فرمایا :’’میں شہنشاہ جنات ہوں ، ہمارا قافلہ اڑتا ہوا جا رہا تھا، یہاں کچھ دیر حاضری کیلئے آنا ہوا تو تمہارے پڑھے گئے کلام کی کشش نے روک لیا ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ واللہ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال 
	اُن کے جانے کے بعد میں اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوا تو انہیں حیران وپریشان پایا ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم پریشان تھے کہ نعتیں پڑھتے پڑھتے اچانک تم نے کس سے گفتگو شرو ع کردی جبکہ ہمیں دوسرا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ جب میں نے انہیں ساری صورت حال بتائی کہ میر ی ملاقات امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عقیدت مند شہنشاہِ جنات سے ہوئی ہے تو وہ بہت حیران ہوئے۔ (قومِ جنات اور امیرِاہلسنّت ، ص۱۰۴)