Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
296 - 479
اسلامی کے مدنی کام کی خدمت میں کوشاں ہوں۔ 
میں نکمّا تو کسی کام کے قابل ہی نہ تھا		مجھ سے بے کار کو تم نے ہی نبھایا یاغوث
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!		صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
شہنشاہِ جنات سبز عمامے میں 
	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’قومِ جنات اور امیرِ اہلسنّت‘‘ کے صفحہ 106 پر ہے : ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ غالباً  1999ء میں جمعرات کے دن سند ھ کے عظیم بزرگ لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزارِ فائِزُ الاَنوَار پر اپنے دوستوں کے ہمراہ حاضر تھا۔ میں آنکھیں بند کئے اِستِغاثیہ کلام پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرے شانے پر کسی نے ہاتھ رکھ کر دبایا۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور پیچھے مڑ کے دیکھا تومیری نظر ایک سفید ریش بزرگ پرپڑی جن کے سرپر سبزسبز عمامہ سجا ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا:’’ یہ کلام جو تم پڑھ رہے تھے { اے کاش میں بن جاؤں مدینے کا مسافر } کس نے لکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی :’’یہ میرے پیر ومرشد شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا کلام ہے ۔‘‘ دریافت فرمانے لگے:’’ تمہارے پیر و مرشد الیاس قادری صاحب (دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) ہیں ؟‘‘ میں نے اِثبات میں سر ہلادیا۔ انہوں نے مجھ سے دوسرا کلام سنانے کی فرمائش کی تو میں نے امیر اہلسنّت