سے ہوئی تو انہوں نے مجھے ایک رسالہ ’’دعوتِ اسلامی کی بہاریں ‘‘ پڑھنے کے لئے دیا، جس کوپڑھنے کے بعد میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت پیداہوگئی۔ خوش قسمتی سے کچھ ہی دنوں بعد مدینۃ الاولیاء ملتان میں دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی آمد آمد تھی اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، اجتماع کا رُوح پرور منظر دیکھ کر میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی عقیدت ومحبت مزید گھرکرگئی اور آہستہ آہستہ میں بدمذہبوں کے شکنجے سے نکل کرمدنی ماحول کے قریب ہوتا چلا گیا۔ لیکن ابھی تک میں مدنی ماحول سے کماحقہ اِکتِسابِ فیض سے محروم تھا۔ ایک مرتبہ میں اپنے دفتر کے قریب ہوٹل پربیٹھاچائے پی رہا تھا کہ اتنے میں سبزعمامے والے ایک اسلامی بھائی تشریف لائے اور نہایت ہی پرخلوص اورمحبت بھرے انداز سے مجھے ایک رسالہ عنایت فرمایا جو بارہ ربیع الاوّل کے بارے میں تھا ،جب میں نے وہ رسالہ بنام ’’جشنِ بہاراں ‘‘ پڑھنا شروع کیا تو ایک ولیٔ کامل کی پُرتاثیر تحریر میرے دل میں اُترتی چلی گئی اور حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی محبت بدرجہ اَتم دل میں گھر کر گئی۔ یوں مجھے بدمذہبوں سے چھٹکارا حاصل ہو گیا، نیکیوں کا شوق بڑھنے لگا اور میں آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر تحصیل مشاورت کے خادم (نگران)کی حیثیت سے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ