Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
294 - 479
 مُضَایَقَہ ہے؟ اللہ تعالٰی نے میری مدد فرمائی اور میں گیارہویں شریف کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھردوسرے ماہ بھی حسبِ سابق میں نے مروجہ طریقے کے مطابق گیارہویں شریف کالنگر کیا، چنددن گزرے تھے کہ ایک روز سوتے میں میرے دل کی دنیاروشن ہوگئی،میری بگڑی سنورگئی، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ہستی سفیدلباس میں ملبوس، سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجائے تخت پر تشریف فرما ہیں۔ ان کے گردلوگ جمع ہیں ، میں نے ایک قریبی شخص سے پوچھا: یہ کون ہیں ؟توکہنے لگا’’یہ شہنشاہ بغداد حضور ِغوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔‘‘ صبح جب میری آنکھ کھلی تو دل ودماغ پروہی منظر چھایا ہوا تھا، چنانچہ جب میری ملاقات اپنے محلے کے خطیب صاحب سے ہوئی تو میں نے گزشتہ رات آنے والے خواب کا ذکر کیا۔ اس پر خطیب صاحب نے میرے خواب اور گیارہویں شریف والے عمل کی تعریف کی اورفرمانے لگے: ’’بیٹا! اس عمل کوجاری رکھیں ، اولیائے عظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت باعثِ خیرو برکت ہے۔ ان کو ایصال ثواب کرنے میں تو ان کاخصوصی فیضان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ ان کی باتیں سن کرمعمولاتِ اہلسنّت کے بارے میں میرے دل میں موجود وسوسوں کا علاج ہوا اور اولیائے کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت وعقیدت نے میرے تاریک دل کو روشن کر دیا۔ کچھ عرصہ بعدمیری ملاقات سبزعمامہ شریف سجائے، سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی