Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
293 - 479
زیارت نصیب ہو گئی، میں نے دیکھا کہ آقائے نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے سرِپُر انوار پر سبز سبز عمامۂ نُور بار بہارو اَنوار لُٹا رہا ہے۔ میرے دل نے گواہی دی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم مجھے عمامہ شریف کی سنّت اپنانے کا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کے بعد میں نے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا لیا اور مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں۔ 

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!			صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

غوث پاک کی سبز عمامے میں زیارت 
	اسلام آباد (دارالحکومت ، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کا لبِّ لباب ہے: میں نے ایک خوش عقیدہ خاندان میں آنکھ کھولی۔ جب میں سنِ شُعُور کو پہنچا (سمجھ دارہوا) توبدقسمتی سے میں اپنازیادہ وقت بدمذہبوں کے ساتھ گزارنے لگا۔ اس قول ’’صحبتِ صالح تُرا صالح کند،صحبتِ طالح تُراطالح کند‘‘ (اچھی صحبت بندے کونیک بنادیتی ہے اوربری صحبت برا) کے مِصدَاق مجھ پربھی بری صحبت کا اثر ہوا اور میرے عقائدواعمال اُن جیسے ہونے لگے میں اہلسنّت کے عقائد و اعمال پر تنقید کرنے لگا اور مختلف وسوسوں کا شکارہوگیا۔ میری خوش قسمتی کہ ایک روز مجھے خیال آیا کہ اگر میں ہر ماہ گیارہویں شریف کا اہتمام کیا کروں تو اس میں کیا