Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
292 - 479
مریدوں کو خطرہ نہیں بَحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوثِ اعظم
سرِاقدس پر سبز عمامہ
	باب المدینہ (کراچی) کے علاقے ڈَرِگ روڈ میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں دین سے غافل معاشرے کا ایک بے حد بگڑاہوا شخص تھا، میرے نیکیوں پر گامزن ہونے کی صورت اس طرح بنی کہ مجھے ۱۴۱۳ھ بمطابق 1992ء میں دعوتِ اسلامی کے تحت کورنگی میں ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا اجتماع میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہونے والے رِقّت انگیز پُرتاثیر بیان نے میرے بدن پر لرزہ طاری کر دیا، مجھے اپنی زندگی کے انمول ہیروں کا یوں گناہوں بھری غفلت کی نذر ہو جانا ندامت دِلانے لگا۔ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے گناہوں سے توبہ کی اور نمازوں کی پابندی شروع کردی نیز سنّت کے مطابق داڑھی شریف بھی رکھ لی لیکن عمامہ شریف سجانے کا ابھی تک ذہن نہیں بناتھا۔ کم وبیش ایک ماہ بعد میری قسمت کھل گئی کہ مجھے خواب میں سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی