Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
291 - 479
پاک کے ساتھ ’’تین منبر‘‘ رکھے ہیں۔ ایک پر غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلوہ فرماہیں اور دوسرے پر امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور ان کے برابر والے منبر پر جو شخصیت جلوہ فرما تھیں میں انہیں پہچان نہ سکا۔ حیرت انگیز طور پَر میری تَشَفِّی کا سامان یوں ہوا کہ تینوں بزرگوں کے سروں پرسبز عمامہ شریف کا تاج سجا ہوا تھا اور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دستِ مبارک میں فیضان سنّت تھی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرما رہے تھے، انداز بالکل سادہ اورعام فَہم تھا۔ بیان کے اختتام پر اجتماعی بَیْعَت کیلئے غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موجودَگی میں ترغیب پَر مبنی اعلان ہوا۔ پھر حضورِ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک ’’سنہری رَسی‘‘ پھینکی جو حَدِّ نگاہ تک جاپہنچی ، اُس رَسی کو امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، تمام شرکاء اجتماع اور میں نے بھی تھام رکھا تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بَیْعَت کے کلمات ادا فرماتے ہیں کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  بَیْعَت کروائی ،جب میری آنکھ کھلی اس وقت اذانِ فجر ہو رہی تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے تمام وَسوسوں کی کاٹ ہو گئی اور اس مبارَک خواب کے ذریعے مجھے درسِ فیضانِ سنت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی موجودگی میں بیعت کا اعلان ،اجتماعی بیعت اور سبز عمامے کے متعلق وسوسوں کا جواب مل گیا۔