ذہن میں چند وَسوسے تھے جنہیں میں دُور کرنا چاہتا تھا مگر تَشَفِّی نہیں ہورہی تھی مَثَلاً:
{۱}دعوتِ اسلامی کے مُبلِّغِین ’’فیضانِ سنّت ‘‘سے ہی کیوں دَرس دیتے ہیں ؟
{۲} امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا’’ اجتماعی بَیْعَت ‘‘کرانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
{۳} امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی موجودگی میں بَیْعَت کا اعلان و ترغیب کیوں دی جاتی ہے؟
{۴}عمامہ شریف’’ سبز رنگ ‘‘کا ہی کیوں ؟
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے ایک ایمان افروز خواب کے ذریعے ان کے جوابات مل گئے، تحدیثِ نعمت کے طور پروہ ’’خواب‘‘ تحریر کر رہا ہوں۔ چنانچہ ایک رات جب میں سویا تو یہ خواب دیکھا کہ ایک بس کھڑی ہے جس میں سبز عمامے والے سُوار ہیں۔ ایک باعمامہ اسلامی بھائی نے مجھے بغداد شریف میں ہونے والے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں اُن کی دعوت پر لَبَّیک کہتا ہوا بس میں سُوار ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بغداد شریف آگیا اور ہم سب غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مزار ِپُر انوار کے سامنے جا پہنچے۔ قریب ہی ایک وسیع میدان میں بہت بڑااجتماع جاری تھا۔ ہر طرف سبز عماموں کی بہار تھی۔ میں بھی اجتماع گاہ میں جاکربیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ روضۂ