{2}سرکار کی پسند اپنی پسند
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی دعوت کی ، (حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :)آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کے ساتھ میں بھی دعوت میں شریک ہو گیا، درزی نے آپ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے سامنے روٹی ، کدّو (لوکی شریف) اور گوشت کا سالن رکھا ۔میں نے دیکھا نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم برتن سے کدّو شریف تلاش کر کے تناول فرمارہے ہیں (اس کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنا عمل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں ) فَلَمْ اَ زَلْ اُحِبُّ الدُّبَّاء َ مِنْ یَوْمِئِذٍ یعنی اس دن کے بعد میں کدّو شریف کو پسند کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب البیوع ،باب ذکر الخیاط،۲/۱۷، حدیث: ۲۰۹۲)
مسلم شریف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت سیّدنا ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سُنا: فَمَا صُنِعَ لِی طَعَامٌ بَعْد اَقْدِرُ عَلَی اَنْ یُصْنَعَ فِیہِ دُبَّائٌ اِلَّا صُنِعَ اس کے بعد اگر کدّو شریف دستیاب ہوجاتا تو میرے کھانے میں وہ ضرور شامل ہوتا ۔ (مسلم، کتاب الاشربہ، باب جواز اکل المرق الخ، ص۱۱۲۹، حدیث:۲۰۴۱)
حضرت حافظ ابوشیخ عبداللہ بن محمد اَصبَہانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت