Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
288 - 479
میری نظر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے برابر موجود شخص پر پڑی تو میں حیران رہ گیاکہ یہ تو امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہہیں جو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے سامنے سر جھکائے رو رہے ہیں۔ حتی کہ روتے روتے آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ اسی اَثناء میں سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّممسکرائے ، آپ کے دَہنِ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمنے اپنا نورانی چہرہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف پھیرا، لبہائے مبارکہ کو جُنبِش ہوئی پھول جھڑنے لگے اور ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے امیرِ اہلسنّت کے لیے انتہائی محبت بھرے کلمات ارشاد فرمائے ‘‘۔ اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے عقیدت تو رکھتا تھا مگر ان سے مرید نہ تھا، جب بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّممیں آپ کی قدر و منزلت دیکھی تو میری عقیدت میں دُونا دُوں اِضافہ ہو گیا۔ خیر اس کے کچھ عرصہ بعد میں خواب میں دوبارہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوا میں نے دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں ، آپ کی دائیں جانب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود ہیں اور سامنے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ادب سے سر جھکائے دوزانو بیٹھے ہیں