دوسرے حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سبز عمامہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہو چکا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کاپیارا
حیدرآباد (سندھ، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کا تحریری بیان بَتَصَرُّف پیشِ خدمت ہے: میرے پاؤں میں فریکچرہو گیا تھا جس کی وجہ سے پاؤں میں سخت تکلیف محسوس کیا کرتا تھا، ایک دن اسی تکلیف کے عالم میں سرورِذیشان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں درود و سلام کے گلدستے پیش کر رہا تھا کہ میری پلکیں نیند کے باعث بوجَھل ہو گئیں اور بالآخر غنودگی نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا، سر کی آنکھیں تو کیا بند ہوئیں میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی، عالمِ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جانب سے سرکارِ دوجہاں ، سرورِ ذیشاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم تشریف لا رہے ہیں ، آپ کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہے جسکی تابانیوں (روشنیوں ) سے ہر طرف نور ہی نور پھیل گیا۔ مجھ پرایک وَجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی ،اسی کیف و سرور میں مَیں نے عرض کی یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) میں بہت تکلیف میں ہوں۔ اچانک