فرمائے۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
سبز عماموں والے بزرگ
رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان انتظامی کابینہ حاجی ابورجب محمد شاہد عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی نے 31 دسمبر 2012 ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مدنی مذاکرے کے دوران ایک مدنی بہار بیان کی جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے: فرماتے ہیں ایک مرتبہ میری ملاقات حَکِیمُ الْاُمَّت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الحَنَّان کے نواسے سے ہوئی جو کہ مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی ہیں ، انہوں نے بتایا کہ میری امی جان (یعنی مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہزادی )نے مجھے بتایا کہ ایک رات خواب میں مجھے اپنے والدِ ماجد (یعنی مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) کی زیارت ہوئی ان کے ساتھ دو بزرگ اور بھی تھے تینوں نے سر پر سبز سبز عماموں کے تاج سجا رکھے تھے۔ میں نے حیرت سے کہا کہ ابو جان! آپ نے سبز عمامہ شریف پہنا ہوا ہے ؟ توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ میرے ساتھ جو دو بزرگ ہیں انھوں نے بھی سبز سبز عمامہ پہن رکھا ہے اِن میں سے ایک بابا کانواں والی سرکار (یہ ولی اللہ ہیں ان کا مزار گجرات میں ہے) اور