Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
283 - 479
گیا ایک وہ درجہ جس میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور آپ کے گرد باقی انبیاء کرا م عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ والسَّلام تشریف فرما تھے اور دوسرا وہ درجہ جس میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے تمام صحابہ اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ و السَّلام کے اصحاب تھے ان کے بعد علمائے کرام رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام اور طلبۂ علمِ دین کا درجہ تھا ۔ مجھے اس درجہ کی سیر کرائی گئی یہاں تک کہ میں اہلِ علم کے درمیان پہنچ گیا۔ مجھے دیکھ کر سبھی کے لبوں پر مرحبا مرحبا کی صدائیں جاری ہو گئیں۔ اس کے علاوہ بھی بارگاہِ الٰہی میں میرے لیے نعمتیں ہیں۔ خواب دیکھنے والے بزرگ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پوچھا وہ نعمتیں کیا ہیں ؟ تو اس نوجوان نے کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں تمام انبیاء کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُوالسَّلام کو قیامت کے دن ایک زمرے میں جمع کروں گا جیسا تم نے دیکھا اور پھر فرمایا: اے گروہِ علماء !یہ میری جنّت ہے جسے میں نے تمہارے لیے مباح فرما دیا ہے ، اور یہ میری رضا ہے بے شک میں تم سے راضی ہوں ، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہونا جب تک کہ تمہاری تمنائیں پوری نہ ہو جائیں اور تم شفاعت نہ کر لو ۔ تم سوال کرو عطا کیا جائے گا ، تم جس کی شفاعت کرو گے میں تمہاری شفاعت اس کے حق میں قبول کروں گا اور یہ سب انعامات اس لئے ہیں کہ لوگ میری بارگاہ میں تمہارے مقام و مرتبے کو جان لیں۔ جب صبح ہوئی توان بزرگ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنا