Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
282 - 479
ربیعہ ،زید بن اسلم ،یحیی بن سعید ، اور ابن شہاب رَحمۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے ان کو قبر میں اتارا اور حضرت سیّدنامحمد بن منذر، صفوان بن سُلَیم ،ابو حازم رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیْن اور ان جیسے دیگر اہلِ علم حضرات ان کی قبرکے قریب ہوئے اور اینٹیں لگوانے میں حضرت سیّدنا ربیعہ رَحمۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مُعَاوَنَت فرمائی ۔ حضرت سیّدنا امام مالک رَحمۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں اس نوجوان کی تدفین کے تین دن بعد ایک بزرگ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے خواب میں انتہائی حسین وجمیل صورت میں سفید لباس زیب ِتن کیے ،سر پر سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجائے ، ایک چتکبرے گھوڑے پرسوار آسمان سے اترتے دیکھا گویا کہ وہ کوئی پیغام لے کر آرہے ہیں۔ انھوں نے سلام کیا اور کہا کہ یہ مقام مجھے علمِ دین کے سبب ملا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے علمِ دین کے ہر باب کے بدلے جو میں نے سیکھا تھا جنت میں ایک درجہ عطا فرمایا مگر میں پھر بھی اہلِ علم کے مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : انبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ والسَّلام کی وِرَاثت کو بڑھادو، میرے ذمۂ کرم پر ہے کہ میں عالمِ اور علمِ دین کی طلب میں فوت ہوجانے والے طالبِ علم کو جنت کے ایک درجے میں جمع کردوں گا۔ پھر میرے رب نے مجھ پر مزید عطائیں فرمائیں یہاں تک کہ میں اہلِ علم کے درجات کو پہنچ گیا اور میرے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے درمیان صرف دو درجوں کا فاصلہ رہ