Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
281 - 479
 ارشاد فرمائی وہ یہ تھی، آپ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلے مجھ سے میرا نام دریافت فرمایا، میں نے عرض کی: اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوعزت عطا فرمائے، میرا نام یحییٰ ہے۔ حضرت سیّدنا یحییٰ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت اپنے ساتھیوں میں عمر کے اعتبار سے سب سے چھوٹا تھا ، حضرت سیّدنا امام مالک رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: اللہ اللہ، اے یحییٰ !تحصیلِ علمِ دین کے لیے محنت و لگن کو لازم پکڑلو، میں تمھاری علم دین میں رغبت بڑھانے کے لیے ایک طالبِ علم کا واقعہ سناتا ہوں جو تمہیں حصولِ علم میں رغبت دلانے اور اس کے غیر سے بچانے میں مُعاوِن ثابت ہو گا۔اس کے بعد آپ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے واقعہ بیان فرمایا کہ اہلِ شام سے تمہاری عمر کا ایک نوجوان علمِ دین کی جستجو میں مدینہ شریف آیا اور ہمارے ساتھ تحصیلِ علم دین میں مشغول رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا، میں نے اس کے جنازے میں ایسے روح پرور مناظر دیکھے جو اس سے پہلے اپنے شہر کے کسی عالمِ دین اور کسی طالبِ علم کے جنازے میں نہیں دیکھے تھے ۔ میں نے اس کی میِّت کے پاس علماء کرام کا ایک جَمِّ غَفِیر دیکھا، حاکمِ وقت نے جب کثیر علماء کرام کو دیکھا تو خود جنازہ پڑھانے سے رُک گیا اور کہا آپ حضرات میں سے جو جنازہ پڑھانا پسند فرمائے وہ آگے تشریف لے آئے، چنانچہ اہلِ علم میں سے حضرت سیّدنا امام رَبِیعَہ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آگے بڑھے اور ان کی نمازِجنازہ پڑھائی اور پھر حضرت سیّدنا