Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
280 - 479
عادت ویسے ہی مسکرائے جیسے دنیا میں مسکراتے تھے پھریہ اشعارکہے(جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے)کہ جب مجھے قبرمیں اُتاراگیااورمیں اپنے دوستوں ، اہل وعیال اور پڑوسیوں سے جدا ہوا تو اس وقت میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کا دیدار کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :’’ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دیاجائے گا بے شک میں تجھ سے راضی ہوں اورمیری بخشش ورحمت تیرے ساتھ ہے۔تم ساری زندگی میرے عفو و کرم اور رضا و خوشنودی کی امید میں رہے پس تجھے جہنم سے بچا کرجنت میں پہنچا دیاجائے گا۔‘‘ سِبط اِبنِ جَوزی نے کہا:اس کے بعد میں نیند سے بیدار ہو گیا مجھ پرخوف طاری تھا اورمیں نے ان اشعارکولکھ لیا۔ (البدایہ والنہایہ ،احداث سنۃ اربع عشرۃ و ست مائۃ، الشیخ الامام العلامہ الشیخ العماد، ۸/۵۸۴) 
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!			 صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

سبز عمامے والا خوش نصیب 
	حضرت سیّدنا یحییٰ بن یحییٰ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جب اللہ تعالٰی نے حضرت سیّدنا امام مالک بن اَنَس رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف علمِ دین کے حصول کے لیے میری رہنمائی فرمائی اور میں آپ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حاضر ہوا تو سیّدنا امام مالک رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھے سب سے پہلے جو بات