اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
بعدِ وصال سبز عمامہ
سِبْط اِبنِ جوزی کا بیان ہے کہ حضرت سیّدنا شیخ عمادالدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی تدفین کی رات جب میں واپس لوٹا تو ان کے بارے میں ، ان کے جنازے اوراس میں شرکت کرنے والے کثیر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ دل میں آیا کہ یہ توبہت نیک انسان تھے، جب انہیں قبر میں رکھا گیا ہو گا تو انہوں نے اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کا دیدار کیا ہو گا۔ اتنے میں مجھے وہ اَشعار یاد آگئے جوحضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنی وفات کے بعد خواب میں مجھے سنائے تھے۔ پھرمیں نے کہا: امید ہے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی طرح انہوں نے بھی اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کا دیدار کیا ہوگا۔ اس کے بعد مجھے نیند آ گئی تومیں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا شیخ عماد الدین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن سبزرنگ کا حُلّہ زیب ِ تن فرمائے، سرپر سبز سبز عمامہ شریف سجائے گویا ایک وسیع و عریض باغ میں ہیں اوروسیع درجات میں بلند ہورہے ہیں۔
میں نے ان سے کہا :’’اے عماد الدین!قبر کی پہلی رات کیسی گزری؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آپ ہی کے متعلق سوچ رہاتھا ۔‘‘وہ میری طرف دیکھ کر حسبِ