Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
27 - 479
معاملے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی اتباع کیا کرتے تھے چاہے ان کا تعلق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتِ عادیہ ہی سے کیوں نہ ہو۔ 

بزرگانِ دین کی سنّت سے محبت 
	صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیْن کی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنتوں سے محبت کا اندازہ مندرجہ ذیل منتخب واقعات سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ 

{1}بات کرتے وقت مسکرایا کرتے 
	حضرت سیّدتنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرت سیّدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی بات کرتے تو مسکراتے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میں نے سیّدنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ) اس عادت کو ترک فرما دیجئے ورنہ لوگ آپ کو احمق سمجھنے لگیں گے۔ تو حضرت سیّدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں نے جب بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو بات کرتے دیکھا یا سنا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم مسکراتے تھے۔‘‘ (یعنی میں بھی اسی سنّت پر عمل کی نیت سے ایسا کرتا ہوں )۔ (مسند احمد،مسند الانصار، باقی حدیث ابی الدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ، ۸/۱۷۱، حدیث: ۲۱۷۹۱)