یہاں سبز عمامے سے متعلق چندمُبَشِّرات ذکر کئے گئے ہیں چنانچہ
سبز عماموں والی فوج
حضرت سیّدنا ابوعُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ سے قبل ایک خواب دیکھا ، جس میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سفید نورانی لباس میں ملبوس سبز سبز عمامے سجائے ، زرد جھنڈے اٹھائے گھڑسواروں کو مُلاحَظہ فرمایا جو حضرت سیّدنا ابو عُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمارہے تھے : آگے بڑھو ، دشمن سے ہرگز خوف مت کھاؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مدد فرمائے گا۔
(فتوح الشام ، نساء المسلمین فی المعرکۃ، ۱/۱۹۱)
بعدِ وصال سبز عمامے میں
اَسمَائُ الرِّجَال کی مشہور و معتبر کتاب تَھذِیبُ الْکَمال میں مذکور ہے کہ جلیل القدر مُحدِّث حضرت سیّدنا ابوعمار حسین بن حُریث رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو وصال کے بعد حضرت سیّدنا ابو بکر بن خُزَیمہ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خواب میں دیکھا کہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ منبرِ رسول پر موجود ہیں ، سفید لباس پہنا ہوا ہے اور سر پر سبز سبز عمامہ جگمگا رہا ہے اور آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک آیتِ کریمہ کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ (تھذیب الکمال، ۶/۳۶۱، سیرِ اعلام النبلاء ، الحسین بن حریث، ۹/ ۵۷۴، رقم: ۱۸۸۶)