نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو کرے گا وہ کافر و مُرتد ہو گا۔ فیضانِ نبوت مُبَشِّرات یعنی خوشخبریوں کی صورت میں قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اچھے خواب پر عمل خوب ہے اور اچھاوہ کہ مُوافِقِ شرع ہو۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ۲۸/۳۶۶) سیرت و تاریخ کی کتب میں کئی واقعات موجود ہیں بلکہ قراٰنِ مجید فرقانِ حمید میں حضرت سیّدنا یوسف عَلَیہِ السَّلام کے خواب اور اس کی تعبیر کا بھی ذکرہے۔ اچھے خواب بیان کرنے کی تو خود ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے بھی ترغیب دلائی ہے چنانچہ
حضرتِ سیّدنا ابوسعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے سَیِّدُالْمُرسَلین، خَاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’اچھاخواب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اسے چاہئے کہ ِاس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرے اور اس خواب کو کسی کے سامنے بیان بھی کر دے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے جب کوئی ایسا خواب دیکھے تو اس کے شر سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگے اور اسے کسی کے سامنے ذکرنہ کرے۔ بے شک یہ خواب اس کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب التعبیر، باب الرؤیا من اللہ، ۴/۴۲۳، حدیث:۷۰۴۵)