اسی لئے حضورِانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم خواب کو اَمْرِعظیم (اہم بات )جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے ، بیان فرمانے میں نہایت اِہتما م فرماتے چنانچہ
حضرت سیّدنا سَمُرہ بن جُنْدب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پُرنُور، شَافعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نمازِصبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے:’’آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھاہے؟‘‘ جس نے دیکھا ہوتا عرض کرتا، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم تعبیر ارشاد فرما دیتے۔‘‘ (بخاری، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المشرکین، ۱/۴۶۷، حدیث:۱۳۸۶)
خواب مبشرات و بشارات ہیں
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَم یَبقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا المُبَشِّرَات یعنی اب نبوت باقی نہیں رہی (ہاں اس کا فیض) مُبَشِّرات کی صورت میں باقی ہے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: وَمَا المُبَشِّرَات؟ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم مُبَشِّرات سے کیا مراد ہے؟ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلرُّؤیَا الصَّالِحَۃَ یعنی مُبَشِّرات سے مراد نیک خواب ہیں۔ (بخاری، کتاب التعبیر، باب المبشرات، ۴/۴۰۴، حدیث:۶۹۹۰) گویا اب قیامت تک کوئی