عَلَیْہِ السَّلَام نے امت کے لیے ذریعۂ ہدایت قرار دیا لہٰذا ان حضرات کی پیروی میں سبز عمامہ استعمال کرناا ور ان حضرات کے استعمال فرمانے کی وجہ سے اس پر سنّت کا اطلاق کرنا جائز ہے، اور اس کے سُنّتِ مُستَحَبَّہ ہونے کی وجہ سے اِلتِزام ضروری نہیں ، بلکہ مناسب یہ ہے کہ سبز عمامہ کے علاوہ سفید وغیرہ رنگ کے عمامے بھی استعمال کیے جائیں تاکہ ایسے رنگ کے عمامہ باندھنے میں بھی سنّت پاک پر عمل ہو سکے اور ثواب حاصل ہو جائے۔ (سبز عمامہ کا جواز، ص۵تا۹)
قبلہ مفتی صاحب دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بھی سبز عمامے کے جوازپر ۱۷ صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘ تحریر فرمایا اور سبز عمامے کے متعلق پیدا ہونے والے وَساوِس کے جواب میں بھی ۲۴ صفحات پر مشتمل ایک اور علمی و تحقیقی رسالہ بنام’’سبز عمامہ کے جواز و اِستِحباب پر اِعتراضات کا علمی و تحقیقی مُحاسَبہ ‘‘ تحریر فرمایا جس میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سبز عمامے کے جواز و اِستِحباب پر دلائل وبراہین قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متعلق پیدا ہونے والے شیطانی وساوس کے تسلی بخش جوابات بھی دئیے ہیں۔
سبز عمامے کے متعلق مُبَشرات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خواب برحق ہیں اگرچہ یہ شرعاً حجت نہیں ہوا کرتے (مطالع المسرات مترجم، ص۱۲۲) لیکن بسا اوقات ان کے ذریعے کسی کو تنبیہ کی جاتی توکسی کو نوید سنائی جاتی ہے۔