Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
274 - 479
 یعانیہ‘‘ یعنی سنّت کا اِطلاق رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام کے قول ، فعل اور اس امر پر کیا جاتا ہے، جس کو دیکھ کر آپ نے سُکوت فرمایا۔ (النظامی شرح حسامی ، باب فی بیان اقسام سنۃ ، ص۶۶)  لہٰذا اس طرح بھی سبز عمامہ کا مَسنُون ہونا ثابت ہوتا ہے۔ 
خلفائے راشدین کی سنّت 
	جیسا کہ ثابت ہوچکا کہ روایتِ مذکور میں مُہاجِرِین اَوَّلین کے مطلق ذکر کے اعتبار سے اس میں خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ عَنْہُم بھی داخل و شامل ہیں اور یہ وہ حضرات ہیں جن کی سنّت ِمبارکہ کو رسولِ کریمعَلَیْہِ السَّلَامنے اُمت کے لیے اپنی سنّت پاک کی طرح قرار دیاچنانچہ حدیث ِرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم ہے: عَلَیکُم بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ المَھْدِیِّین ۔ 
(ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ،۴/۲۶۸، حدیث:۴۶۰۷) 
	ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ کے بارے میں فرمایا: اَصحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِاَیِّھِم اِقتَدَیتُم اِھتَدَیتُم (یعنی) میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے چلو گے راہ پاؤ گے۔ (مشکوۃ المصابیح ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابۃ، الفصل الثالث، ۲/۴۱۴، حدیث:۶۰۱۸) 
	معلوم ہوا کہ سبز رنگ کے عمامے استعمال کرنے میں راہِ ہدایت کے ستارے صحابۂ کرام (رَضِیَ اللہُ عَنْہُم) کی پیروی ہے اور ان کی پیروی کو محبوبِ خدا