Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
273 - 479
مفتی صاحب مہاجرین اوّلین کے سبز عمامہ شریف پہننے والی روایت(1) ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں : روایتِ مذکور کے اِطلاق میں ان صحابۂ کرام کا بھی سبز وغیرہ رنگ کے عمامے باندھنا ثابت ہوتا ہے اور اس اطلاق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا، کہ سبز رنگ کا عمامہ باندھنا پیارے صدیقِ اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ) کی سنّت ہے، حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ، حضرت سیّدنا علی المرتضی شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ اور شہداء بدر وغیرہم مہاجرین اولین صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کی سنّت ہے۔ 
	مذکور روایت میں مہاجرین اوّلین کے مُطلَق ذکر کی روشنی میں یہ غالب و قوی پہلو کار فرما ہے کہ ان حضرات نے سبز رنگ کے عمامے رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے باندھے ہوں اور آپ کا منع فرمانا ثابت نہیں اور ایسا امر جس کو دیکھ کر رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے سکوت فرمایا اور منع نہ فرمایا ’’سنّتِ تقریری و سُکوتی کہلاتا ہے‘‘ چنانچہ دیگر کُتُبِ اُصول کے علاوہ نظامی شرح حسامی میں ہے’’ اَلسُّنَّۃُ تُطلَقُ عَلٰی قَولِ الرَّسُولِ عَلَیہِ السَّلام وَ فِعلِہ وَ سُکُوتِہ و بالفاظ نظامی عند امر



1…مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶