Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
272 - 479
 شریف کے جواز پر لکھے گئے اپنے رسالے میں فرماتے ہیں :بلاشبہ سبز رنگ کا عمامہ باندھنا جائز و رَوَا ہے اور اس کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج ومُضَایَقَہ نہیں ، سفید وغیرہ رنگ کے عمامہ کی طرح اس رنگ کے عمامہ کو باندھنے سے بھی اِن شَآئَ اللہ سنّت پاک پر عمل ہو جائے گا اور ایسے رنگ کا عمامہ باندھنے والا بارگاہِ خداوندی جَلَّ جَلَالُہٗ میں اجرو ثواب کا مستحق ہو گا۔ کتبِ احادیث و سِیَر میں اگرچہ باِلعُمُوم باقی رنگ کے عَمائِم کا ذکر ہے تاہم محقق علی الاطلاق  شیخ عبدالحق محدث دہلوی  عَلَیْہِ الرَحْمَۃ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَلٰوۃُ وَالتَّسلِیم کے لباس مبارک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’دستارمبارک آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم اکثر اوقات سفید بودگاہے سیاہ و احیاناً سبز ترجمہ : رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی دستار مبارک اکثر سفید ہوتی تھی کبھی سیاہ رنگ کی ہوتی اور بسا اوقات سبز رنگ کی ہوتی۔‘‘ (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب ، ص ۳) لہٰذا حضرت محدّث دہلوی کے اس قول کی صحت کی صورت میں سبز رنگ کا عمامہ سُنّتِ مُستَحَبَّہ کے زُمرہ میں آجاتا ہے، اگر بالفرض سیدِ عالم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس رنگ کا عمامہ استعمال فرمانا روایۃً منقول و ثابت نہ بھی ہو تو یہ امر اَظْہَرْ مِنَ الشَّمْس ہے کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام نے سبز رنگ کے کپڑوں کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ استعمال بھی فرمایا۔ (سبز عمامہ کا جواز، ص ۲)