جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو سبز رنگ مَرغُوب و محبوب ہے تو پھر امتی کو ضد کیوں ؟ ثابت ہوا کہ سبز عمامہ جائز و مستحب ہے کیونکہ اصل مقصود عمامہ باندھنا ہے وہ خواہ سفید رنگ میں ہو یا سبز و پیلے رنگ کا، مُعتَرِضِین کا اسے بدعت و ناجائز کہنا غلط اور خلافِ تحقیق ہے۔ (سبز عمامہ کا جواز، ص ۱۰)
نوٹ : مفتی صاحب رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے جواز پر ۴۰ صفحات پر مشتمل ایک رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘ تحریر فرمایا جس میں آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے جواز پر تفصیلی کلام فرمایا ہے ۔
مفتی عبدالرزاق بھُترالوِی صاحب کا فتویٰ
مُحَقِّقِ اہلِ سنّت ، مُحَشِّیِ کُتُبِ درسِ نظامی، مُصَنِّفِ کُتُبِ کثیرہ حضرتِ علّامہ مفتی عبدالرزاق چشتی بھُترالوِی مُدَّ ظِلُّہُ العَالِی نے بھی سبز عمامے کے متعلق۵۶ صفحات پر مشتمل ایک علمی و تحقیقی رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کی برکتوں سے کذّاب جل اُٹھے ‘‘تحریر فرمایاہے جس میں دلائل وبراہین سے نہ صرف اس کا جواز ثابت کیا بلکہ اس کے متعلق پیدا ہونے والے شیطانی وساوس کے تسلی بخش جوابات بھی دئیے ہیں۔
مفتی رضاء المصطفیٰ ظَرِیفُ القادری صاحب کا فتویٰ
حضرت علّامہ مفتی رضاء المصطفیٰ ظَرِیفُ القادری مُدَّ ظِلُّہُ العَالِی سبز عمامہ