اس پر آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے(جواز کے ) متعلق ایک رسالہ بنام’’لَمْعَۃُ النَّیَّر فِی لَونِ الَاخضَر‘‘ تحریر فرمایا جو کہ سبز عمامے کے متعلق لکھا جانے والا پہلا تحقیقی رسالہ ہے ۔ (ریاض الفتاویٰ ، ۳/۲۵۱)
نوٹ:یہ رسالہ ریاض الفتاویٰ کی تیسری جلد میں صفحہ 251 تا 257 پرموجود ہے۔
مفتی محمد فیض احمد اویسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا فتویٰ
خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند، مُصَنِّفِ کُتُبِ کثیرہ ، حضرتِ علّامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے رسالے ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘‘ میں فرماتے ہیں : دورِ حاضر میں جن صاحبان نے سبز عمامہ کو بدعت و حرام کہا ہے انہوں نے شریعتِ مُطَہَّرہ پر اِفتراء اور خود کو مستحقِ سزا بنایا ہے اس لئے کہ اس کا استعمال بہشت میں بہشتیوں (جنتیوں ) کو نصیب ہو گااور دنیا میں خود سرور ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم سے اس کا استعمال ثابت ہے اور جو عمل حضور سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ثابت ہو اس کو بدعت و حرام کہنا ظلمِ عظیم ہے۔
(سبز عمامہ کا جواز، ص ۷)
مزید حضرت مُلَّا علی قاری عَلَیہِ رَحْمۃُاللہِ البَارِی کے حوالے سے ایک روایت ’’کَانَ اَحَبُّ الاَلْوَانِ اِلَیْہِ الخُضْرَۃ یعنی رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو رنگوں میں زیادہ محبوب سبز رنگ تھا ‘‘ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :