بعض لوگ سبز رنگ کی چپل پہنتے ہیں ، بعض لیٹرین کے دروازے پر سبزرنگ کا پائیدان رکھتے ہیں ، اِستِنجا کا لوٹا سبز رکھتے ہیں میں اسے ناجائز یا گناہ تو نہیں سمجھتا لیکن میرا دل نہیں کرتا کہ میں ایسا کروں ‘‘ کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے
سبز عمامے کے جواز پر مفتیانِ کرام کے فتاویٰ
مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا فتویٰ
شارح بخاری ، نائب ِمفتیٔ اعظم ہند، مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک سوال: ’’سبز رنگ کے عمامہ میں کوئی حرج ہے یا نہیں ؟‘‘ کے جواب میں فرماتے ہیں : سبز رنگ کے عمامہ میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
(ماہنامہ اشرفیہ فروری ۱۹۹۹ ء بحوالہ دعوتِ اسلامی علمائے اہلِ سنّت کی نظر میں ،ص ۳۸)
مفتی ریاض الحسن رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فتویٰ
خلیفۂ حُجَّۃُ الاِسلام حضرت علّامہ مولانا ریاض الحسن جیلانی قادری رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سبز عمامہ شریف بھی باندھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ (رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) کے ایک مُعَاصِر عالم (صاحب )نے آپ سے سبز عمامہ کے متعلق اِستفسار کیا اور یہ رائے بھی قائم کی کہ سبز عمامے کے بجائے سفید ہی ہونا چاہیے۔