عَلِمَ طَرِیْقَ الْحَقِّ سَہُلَ سُلُوْکُہ وَلَا دَلِیْلَ عَلَی الطَّرِیْقِ اِلَی اللہِ تَعَالٰی اِلَّا مُتَابَعَۃَ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اَحْوَالِہ وَاَفْعَالِہ وَاَقْوَالِہ یعنی جو شخص راہِ حق کو جان لے اس کے لیے اس راستے پر چلنا آسان ہو جاتا ہے اور راہِ حق کی معلومات صرف رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کے احوال ، اقوال اور افعال میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی اتباع سے ہوتی ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ابوحمزہ البغدادی البزاز ، ص ۶۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں کی پیروی ایمان کے کامل ہونے، دل میں محبتِ مصطفی کا چراغ جلانے ، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کا قرب پانے اورراہِ حق اپنانے کا ذریعہ ہے اور یقیناًہر مسلمان کی یہی دلی تمنا ہے کہ وہ ان نعمتوں سے سرفراز ہو ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کے اقوال، افعال، حالات اور سیرتِ طَیِّبہ کا بغور مطالعہ کرکے اپنی زندگی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی اطاعت اور آپ کی سنّتوں پر عمل کرتے ہوئے گزاریں ، صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیْن سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی ہر ہر سنّت پر عمل کی کوشش کیا کرتے تھے اور ہر