امیرِ اہلسنّت کی سبز رنگ سے محبت
پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ زبر دست عاشقِ رسول ہیں۔ آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کا عاشقِ رسول ہونا ہر خاص وعام پر ظاہر وباہِر ہے اور سچی محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب کی ہر پسندیدہ چیز بلکہ محبوب سے نسبت رکھنے والی ہر ہر شے سے بھی محبت کی جائے۔ سبز گنبد کے مَکِین، رَحمَۃٌ لِّلعَالَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو سبز رنگ محبوب تھا اور آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے روضۂ مبارکہ پر بنے گنبد کا رنگ بھی سبز ہے یہی وجہ ہے کہ عاشقِ صادق، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ بھی سبز رنگ سے بے حد محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ملفوظات سے لگایا جا سکتا ہے جس کا اظہار آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ وقتاً فوقتاً اپنے بیانات و مدنی مذکرات میں فرماتے رہتے ہیں کہ ’’میں نے گنبدِ خضریٰ کی نسبت ہی سے تو سبز رنگ کو سر پہ سجایا ہے (کہ اسے میرے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے پسند فرمایا ہے ) اب اسے قدموں تلے روندوں ؟ میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اپنے قدموں سے سبز گھاس کو روندوں یا سبز قالین پر ہی چلوں یہ اگرچہ جائز ہے لیکن دل نہیں مانتا۔ اگرچہ کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے چلنا بھی پڑ جاتاہے۔