حضرت علّامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اِبنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’سبز لباس جنّتیوں کا لباس ہے اور سبز رنگ کے لیے یہی شرْف کافی ہے کہ اہلِ جنّت کے لباسوں کا رنگ سبز ہو گا اسی وجہ سے شُرَفا نے اسے اپنا یا ہے۔ ‘‘
(جمع الوسائل، باب ماجاء فی لباس رسول اللہ الخ ، الجزء الاول، ص۱۴۴)
حضرت علّامہ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سبز رنگ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سبز رنگ کی طرف دیکھنا نظر کو تیز کرتا ہے۔‘‘ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر آداب لباس ، ص ۳۷)
سبز رنگ’’امن‘‘ کی علامت ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غالباً مذکورہ بالا قول کہ سبز رنگ کی طرف دیکھنا نظر کو تیز کرتا ہے کی وجہ سے ہی آپریشن والی آنکھ پر ڈاکٹر صاحبان سبز کپڑے کا ٹکڑا بندھواتے ہیں ، نیز سبز رنگ ’’امن‘‘ کی علامت بھی ہے کہ ٹرین کو چلانے کیلئے سبز جھنڈی دکھائی جاتی ہے یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آگے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسی طرح دیگر گاڑیوں کو بھی ٹریفک کی سبز لائٹ ہی جانے کا اشارہ کرتی ہے کہ گاڑی آگے بڑھنے دو کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔