Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
266 - 479
 بھی درست ہے کہ امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی سے جب سوال کیا گیا :ذَکَرَ بَعضُھُم اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم لَبِسَ عِمَامَۃً صَفرَائَ فَھَل لِذَالِکَ اَصلٌ ؟ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے زرد عمامہ پہنا ہے، تو کیا اس کی کوئی اصل ہے ؟ 
	حضرت علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے جواب میں زرد عمامہ شریف والی روایات کے ضمن میں یہ حدیث بھی ذکر فرمائی کہ حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم یُصَفِّرُ ثِیَابَہ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم اپنے کپڑوں کو زرد رنگا کرتے تھے۔ 
(الحاوی للفتاوی ، کتاب البعث، ذکر ما وقع لنا من روایۃ الحسن الخ، ۲/۱۲۶) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کا ’’زرد عمامے‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں ’’زرد کپڑوں ‘‘ والی حدیث پیش کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لباس کے اطلاق میں عمامہ بھی شامل ہے، ورنہ سوال و جواب میں مُطابَقَت ہی نہ ہوگی جو کہ علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی جیسی شخصیت کے متعلق تصور بھی نہیں کی جا سکتی۔