Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
264 - 479
جاتی ہے کہ جس جگہ صرف اسلامی بہنیں ہی ہوں وہاں بھی مدنی برقعے کا اُوپری حصہ نہ اُتاریں بلکہ اس پر ہی گرین اِسکارف پہن لیا کریں۔ 
سبز گھڑ سُوار
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عمران واسِطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں مکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سے سُوئے مدینۂ منوَّرہ زَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مزارِ فائضُ الانوار کے دِیدار کی نیَّت سے چلا، راستے میں مجھے اِتنی سخت پیاس لگی کہ موت سر پر منڈلانے لگی ، نِڈھال ہو کر ایک کِیکَر کے دَرَخْتْ کے نیچے بیٹھ گیا۔  یکایک سبز لباس میں ملبوس ایک سبز گھڑ سُوار نُمُودار ہوئے ،اُن کے گھوڑے کی لگام اور زِین بھی سبز تھی نیز اُن کے ہاتھ میں سبز شربت سے لبالب سبز پِیالہ تھا، وہ اُنہوں نے مجھے دیا اور فرمایا: پیو! میں نے تین سانس میں پیا مگر اُس پیالے میں سے کچھ بھی کم نہ ہوا۔ پھر اُنہوں نے مجھ سے فرمایا:کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: مدینۂ منوَّرہ زَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا تاکہ سرورِ کونَین ، رَحمتِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور شیخینِ کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بارگاہوں میں سلام عرض کروں۔ فرمایا : جب تم وہاں پہنچو اور اپنا سلام عرض کرلو تو اُن تینوں بُلند و بالا