Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
255 - 479
کہ سبز عمامہ شریف صرف جائز ہی نہیں بلکہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم سے اس کا پہننا ثابت نیز فرشتوں اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنّت بھی ہے اور اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا بھی سبز عمامے سجانے کا معمول رہا ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِاسلامی  کے مدنی ماحول سے وابستہ لاکھوں عاشقانِ رسول سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وَسلَّم فرشتوں اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اپنے سروں پر سبز سبز عمامہ شریف سجاتے ہیں۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے مدنی مذاکروں میں عمامہ شریف کے حوالے سے وقتاً فوقتاً جن ملفوظات سے نوازتے ہیں ان میں سے کچھ کا خلاصہ یوں ہے کہ ’’وہ رنگ جس سے شریعت نے منع نہیں کیا اس کا عمامہ باندھنا جائز ہے البتہ شوخ رنگ جو عورتوں کے لئے مخصوص ہوتے ہیں استعمال نہ کئے جائیں۔ باقی سفید، کتھئی ، پیلا ، سبز اور سیاہ میں سے کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھئے ان رنگوں کے عمامے بھی جائز ہیں۔ البتہ سیاہ عمامہ شریف محرم الحرام کے دنوں میں نہ پہنیں تاکہ بدمذہبوں سے مشابہت نہ ہو ۔ البتہ جو دعوتِ اسلامی والا ہے وہ سبز ہی باندھتا ہے ۔ یاد رکھیں اگر کوئی صحیح العقیدہ سنّی سبز عمامہ شریف نہیں باندھتا تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ دعوتِ اسلامی