ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ نے ایک مرتبہ دوران مدنی مذاکرہ عمامہ شریف سے متعلق ایک سچا واقعہ بیان فرمایا جس کا خلاصہ ہے کہ ایک عرب کے مقیم اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ ان کا کسی کام کے سلسلے میں یمن جانا ہوا جہاں انہیں ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پتا چلا کہ وہ بڑے زبردست عاشقِ رسول اور خوفِ خدا رکھنے والے ہیں دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے ایک پہاڑ پر رہتے ہیں۔ ہر وقت سبز سبز حلہ شریف زیب تن کئے رکھتے اور سبز سبز عمامہ شریف سر پر سجائے رکھتے ہیں۔ عوام خواص ان کی زیارت کے لیے جاتے اور بر کتیں پاتے ہیں ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ بکثرت دیدارِ مصطفی سے مشرف ہوتے ہیں اور جس دن زیارت نہیں ہوتی اس دن ان پر غم کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ میں بھی زیارت کا شوق لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا نورانی چہرہ دیکھ کر قلبی سکون کا احساس ہوا اور ان کے سر پر سبز سبز عمامے شریف کا تاج دیکھ کر دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول کے سبز سبز عمامے یاد آگئے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
عمامہ کے رنگ کے متعلق اہم وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایات و عبارات سے واضح ہو گیا