رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک مدت تک حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ کے پیش کار رہے ، ان کے پاس امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک استعمال شدہ عمامہ برنگ سبز موجود تھا ۔ سید قناعت علی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہایک عرسِ قادری رضوی کے موقعہ پر لائل پور(1) وہ دستار لائے اور حضرت شیخ الحدیث (محدّث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد ) قُدِّسَ سِرُّہُ کے حضور پیش کی ۔ جناب سید قناعت علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس وقت ایک درخواست کی کہ حضور وعدہ کیجئے کہ کل بروزِ قیامت جب آپ جنت میں داخل ہوں گے ، فقیر کو نہ بھولئے گا ۔اس پر حضرت شیخ الحدیث قُدِّسَ سِرُّہُ آبدیدہ ہو گئے ۔ اور فرمایا کہ جنت میں داخلہ تو آپ کے نانا پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم اور آپ کے طفیل ہی ملے گااور پھر یہ کہ آپ حضور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت اور خدمت سے مشرف ہیں۔ خود آپ کا تعلق جس گھرانے سے ہے اسی کے صدقہ سب کو جنت میں داخلہ نصیب ہو گا ۔ آپ اس قسم کی باتیں کرتے رہے اور جناب سید قناعت علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی درخواست پر اصرار کرتے رہے ۔ یہ منظر حاضرین کے لئے بڑی رِقّت کا باعث بنا۔ بعد ازاں آپ (محدّثِ اعظم پاکستان) نے عمامہ لے کر امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہُ کی طرز پر باندھا ۔ (تذکرہ محدّثِ اعظم پاکستان ، ۲ / ۳۷۵)
1…سردار آباد (فیصل آباد) کا پُرانا نام ہے۔