Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
250 - 479
عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے چچازاد تھے، آپ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ۱۹ رجب ۵۲۱؁ھ بروز پنج شنبہ بعد نماز مغرب سیّدنا غوثِ اعظم عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے بیعت کا شرف پایا تھا۔ تقریباً ۲۸ سال بعد ۹ ذوالقعدۃ الحرام ۵۴۸ ھ دوشَنبَہ (پیر) کے دن بعد نمازِ عصر سیّدنا غوثِ اعظم عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ایک مجلس عام میں سامنے بٹھا کر بیعت امامت و ارشاد سے مشرف کر کے اپنی کُلاہ جو آپ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو آپ کے پیرومُرشد سیّدنا ابوسعید مخزومی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور دیگر مشائخ سلسلہ کے واسطے سے حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الکَرِیم سے ملی تھی شاہ دولہ کے سر پر اُوڑھا دی اور اپنے ہاتھ سے سبز عمامہ باندھا اور خرقہ عطا فرمایا۔ 
(تاریخ مشائخِ قادریہ ، ۲/۱۹۳ بتصرف) 
حضرت شاہ محمد کاشف کاکوروی کا سبز عمامہ
	حضرت سیّدنا شاہ محمد کاشف کاکوروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بارھویں صدی ہجری کے سلسلۂ قادریہ کے عظیم صوفی اور مُستَجَابُ الدَّعوَات بزرگ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سبز عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔ (تاریخ مشائخِ قادریہ ، ۲/۱۲۱) 
اعلٰی حضرت کا سبز عمامہ 
	تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان میں حضرت علامہ مفتی محمد جلالُ الدین قادری عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : حضرت سیّد قناعت علی قادری بریلوی