سے ہمیں حجاج بن یوسف (جیسے جابر حکمران )سے نجات ملی ہے ، سلیمان بن عبدالملک تو ہمارے لئے خیر کی کنجی ثابت ہوا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ بھی حضرت سیّدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہی پڑھائی تھی علّامہ ابن اثیر رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’اَلکَامِل فِی التَّارِیخ ‘‘ میں ان کے سبز حُلّے اور سبز عمامے کا ذکر فرمایا ہے ۔ (الکامل فی التاریخ، ثم دخلت سنۃ تسع وتسعین، ذکر موت سلیمان بن عبد الملک ، ۴/۳۱۱)
شیخ ابو العباس احمد الملثم کا سبز عمامہ
حضرت سیّدنا شیخ ابو العباس اَحمَد مُلثِم رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مصر کے جلیل القدر مشائخ اور محققین میں سے تھے ہر سمت سے لوگ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایسے زبردست ولیٔ کامل تھے کہ زبانِ مبارک سے جو فرماتے تھے ویسا ہی ہو جایا کرتا تھا ۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کبھی سفید تو کبھی سبز اُونی عمامہ شریف زیبِ سَر فرماتے ، کبھی جبہ پہنتے اور کبھی پیوند لگے کپڑے زیبِ تن فرماتے ۔
(الطبقات الکبرٰی، الجزء الاول، ص۲۱۹)
غوثِ پاک نے سبز عمامہ سجادیا
حضرت سیّد کبیرالدین شاہ دولہ رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رشتے میں غوثِ اعظم