Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
248 - 479
اسی طرح حضرت سیّدنا جابر بن عبداللہ رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:’’ اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان ) کو دیکھا۔‘‘ (ترمذی ، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی فضل من رای النبیّ الخ، ۵/۴۶۱، حدیث :۳۸۸۴) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ لاکھوں عاشقانِ رسول اپنے سروں پرسبز سبز عمامے شریف پہن کر نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جانثار صحابہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم کی سنّت پر عمل کر کے اس پر اجرِ عظیم کے حقدار بن رہے ہیں ۔ 
خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا سبز عمامہ
	خلیفہ سلیمان بن عبد الملک جنہوں نے اپنے بعد حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا یہ ایسے خلیفہ تھے کہ جن کے بارے میں ان کی رعایا کہا کرتی تھی کہ سلیمان بن عبد الملک کے خلیفہ مقرر ہونے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
، ۳/۴۸۹) حضرت سیّدنا  امام بخاری   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرت سیّدنا ابو حاتم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا ’’اِنہوں نے مہاجرین اور انصار صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم کا زمانہ پایا ہے۔‘‘ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۹۰)