کی سی ہے، جن سے راہ تلاش کی جاتی ہے، تم ان میں سے جس کے قول پر عمل کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔‘‘ (مسند عبد بن حمید ،احادیث ابن عمر، ۱/۲۵۰، حدیث :۷۸۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص۱۰۹۰) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں : امام احمد ، امام ابن معین، امام ابوزرعہ ، امام نسائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن نے انہیں ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے متعلق ’’ لا بأس بہ‘‘ کہا ہے۔ حضرت سیّدنا امام یعقوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا کہ یہ ’’ مُستَقِیمُ الحَدِیث‘‘ ہیں ۔ حضرت سیّدنا امام ابنِ حِبّان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثِقَات‘‘ میں شمار کیا۔
(تہذیب التہذیب ، حرف الیاء ، ۹/۴۱۹)
{5}حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:اس روایت کے پانچویں راوی حضرت سیّدنا سلیمان ابن ابو عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ آپ نے مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم کا زمانہ پایا ہے، آپ حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص ، حضرت سیّدنا ابوہریرہ اور حضرت سیّدنا صُہیب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم سے روایت کرتے ہیں ۔ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۸۹ملتقطًا)
حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تَقرِیبُ التَّہذِیب میں انہیں ’’مقبول‘‘ لکھا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص ۴۰۹) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یہ اگرچہ مشہور نہیں مگر ان کی احادیث معتبر ہیں ۔ حضرت سیّدنا امام ابن حبان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ثقات میں شمار فرمایا ہے۔ حضرت سیّدنا امام ابوداؤد رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آپ سے اپنی ’’سُنَن ‘‘کے باب ’’حَرَمُ المَدِینَہ‘‘ میں روایت لی ہے ۔ (تہذیب التہذیب ، حرف السین،