مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا مہاجرین اوّلین صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سے سبز عمامے باندھنا ثابت ہے اور صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کی عظمت و شان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیں جبکہ ، امام ابوداؤد، امام ابن ماجہ، امام احمد بن حنبل نے بھی ان سے روایات لی ہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں تیس اورصحیح مسلم شریف میں ان سے ایک ہزار پانچ سو چالیس احادیث روایت کی گئی ہیں ۔ (تہذیب التہذیب ، حرف العین، ۴/۴۶۶ ملتقطًا)
حضرت سیّدنا امام ذہبی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی نے ان کے متعلق ’’حافظ، عدیم النظیر‘‘ کے الفاظ لکھے ہیں ۔ (تذکرۃ الحفاظ ،الطبقۃ الثامنۃ، الجز الثانی ، ۱/۱۶) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ حافظ‘‘ لکھا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص۵۴۰) علامہ ابن کثیر نے ان کے متعلق کہا کہ ’’ احد الاعلام و ائمۃ الاسلام تھے، ان کی ’’المُصَنَّف ‘‘ جیسی کتاب نہ کسی نے پہلے لکھی اور نہ بعد میں لکھی گئی ۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ، احداث سنۃ خمس و ثلاثین و مائتین،۷/۳۲۶)
{2}حضرت سیّدنا سلیمان بن حرب بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :دوسرے راوی حضرت سیّدنا سلیمان بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں جو کہ مکہ معظمہ کے قاضی تھے، اہلِ بصرہ کے جلیل القدر اوراہلِ علم میں سے ہیں ۔
حضرتسیّدنا امام ابوحاتم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے بارے میں فرمایا :’’ یہ آئمہ میں سے امام ہیں ، ان سے تقریباًدس ہزار احادیث مروی ہیں ۔‘‘ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۶۵) حضرت سیّدنا امام نسائی َرحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ ، مامون‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام ابن سعد نے انہیں ’’ثقہ اور کثیر الحدیث ‘‘ فرمایا ہے ۔ امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے ۱۲۷ روایات نقل کی