Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
244 - 479
اور تیسری مرتبہ حضرت سیّدنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک ہزار فرشتوں کی جماعت لے کر اُترے ۔ (اس میدان میں )ملائکہ کی نشانی سبز ، زرد اور سرخ رنگ کے نورانی عمامے تھی۔ (الوفا باحوال المصطفی، ابواب غزواتہ ،الباب السادس فی غزاۃ بدر، الجزء الثانی، ص ۲۲۸)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سبز عمامے 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز عمامے کا ثبوت نہ صرف سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ملتا ہے بلکہ مصطفیٰ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جانشین صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ جَلِیلُ القدر تابعی حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔(1) (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…سند کی توثیق:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کی سند میں پانچ روای ہیں جو سب کے سب ’’ثقہ ‘‘ہیں چنانچہ {1}حضرت سیّدنا امام ابوبکر بن ابی شَیبَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ: اس روایت کے پہلے راوی امام ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ رَحمۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہہیں جو کہ ثقہ ہیں ۔ امام بخاری اور امام مسلم رَحِمَہُمَااللہُ تَعَالٰی عَلَیہ کے استاد