Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
242 - 479
 سے سوئے اور  اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ پڑھ کر داہنی ہتھیلی پر دم کرے اور سر کے نیچے رکھ کر سوئے ۔ یہ عمل شبِ جمعہ یا دو شنبہ (پیر )کی رات کو کرے اگر چند بار کرے گا اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی مقصد حاصل ہو گا۔ 
(کلیاتِ امدادیہ ، رسالہ ضیاء القلوب ، ص ۶۱)
 حاجی اِمدادُ اللہ مہاجر مکی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مذکورہ قول سے دو باتیں واضح ہوئیں : 
(۱)حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا سبز عمامہ باندھنا حق ہے، ورنہ ایک ایسا کا م جو نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے کیا ہی نہیں وہ آپ کی طرف منسوب کرنا لازم آئے گااور ایسی ہستی سے اِس بات کا تصور کرنا درست نہیں۔ 
(۲) اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللہ کا ورد کرنا ناجائز یا حرام نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ درود ہے کہ جس کے وِرد سے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔ 
سیّدنا عیسٰی علیہ السلام کا سبز عمامہ 
	عَارِف بِاللہ ،نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علّامہ مولانا امام عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّ ء ُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی عَلی