Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
24 - 479
 والسنۃ، الفصل الثانی، ۱/۴۱۴، تحت الحدیث:۱۶۸) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کی کیسی برکتیں ہیں ،آج کے پُرفتن دور میں کہ جب ہر طرف فیشن کی بھرمار ہے ، پیارے پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنتوں پرعمل کرنا اگرچہ دشوار ہے جیسا کہ 
سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کی مثال 
	حضرت سیّدنا عبداللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم، نُورِمجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کا اِرشادِ پاک ہے: اَلْمُتَمَسِّکُ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ اِخْتِلَافِ اُمَّتِیْ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ یعنی اختلافِ امّت کے وقت میری سنّت کومضبوطی سے تھامنے والا ہتھیلی میں اَنگارے رکھنے والے کی طرح ہو گا۔ (کنزالعمال، کتاب الایمان والاسلام ، الباب الثانی فی الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الجزء الاول، ۱/۱۰۵، حدیث:۹۳۳) 

دشواری زیادہ تو ثواب بھی زیادہ
	مگر یاد رکھئے جس عمل میں دشواری زیادہ ہو اس کا اجر و ثواب بھی بڑھا دیا جاتا ہے جیسا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب