Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
23 - 479
 بدعتِ سیئہ( بُری بدعت ) کو رواج دیا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نا پسند فرماتے ہیں تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہے جو اس بدعت سیئہ پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔ (ترمذی ،کتاب العلم،باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/۳۰۹، حدیث:۲۶۸۶) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

سنّت کو زندہ کرنے کا مطلب
	حضرت علّامہ ملّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث کے اس حصے’’مَن اَحیَا سُنَّۃً یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’سنّت کو زندہ کرنے سے مراد اپنے قول وعمل کے ذریعے اس سنّت کی اِشاعت و تشہیر کرنا ہے۔‘‘ حدیثِ پاک کے اس حصے ’’قَد اُمِیتَت بَعدِی یعنی جو میرے بعد مٹ چکی تھی‘‘ کی تشریح میں امام ابنُ المَلِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل فرماتے ہیں :’’ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سنّت پر عمل کو چھوڑ دیا گیا ہو، تو میرے بعد جس نے اس سنّت کو اپنے عمل کے ذریعے یا دوسروں کو اس پر عمل کی ترغیب کے ذریعے زندہ کیا تو اس کے لیے ان لوگوں کی مثل پورا پورا اجر ہے جو بھی اس سنّت پر عمل کرے۔ ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب