کافروں کو قتل کرے یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔ حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم میں اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ پھر وہ اپنے سر پر ایک سرخ رنگ کا عمامہ باندھ کر اکڑتے اور اتراتے ہوئے میدان جنگ میں نکل پڑے اور دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اور تلوار چلاتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے کہ ایک دم ان کے سامنے ابوسفیان کی بیوی ’’ہند‘‘آ گئی۔ حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارادہ کیا کہ اس پر تلوار چلا دیں مگر پھر اس خیال سے تلوار ہٹالی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی مُقَدَّس تلوار کے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی عورت کا سر کاٹے۔ (مدارج النبوت، قسم سوم، باب سوم، ۲/۱۱۵)
حضرت سیّدنا خالد بن رَباح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بنی ساعدہ کے کچھ بزرگوں سے راویت فرماتے ہیں : قَتَلَ اَبُو دُجَانَۃَ الْحَارِثَ اَبَا زَیْنَبَ وَکَانَ یَوْمئِذٍ مُعَلّمًا بِعِمَامَۃٍ حَمْرَائَ یعنی حضرت سیّدنا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جس دن ابو زینب حارث کو قتل فرمایا اس دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرخ عمامہ شریف باندھا ہوا تھا۔ (کتاب المغازی ، غزوۃ خیبر، ۲/۶۵۴)
{2}سیّدنا خالد بن ولید کا سرخ عمامہ
حضرت علامہ امام ابوعبداللہ محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرخ رنگ کا عمامہ