کے عمامے شریف سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سرخ عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے دو کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ
{1}سیّدنا ابو دُجانہ کا سرخ عمامہ
خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : غزوۂ اُحد کے موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے دستِ مبارک میں ایک تلوار تھی جس پر یہ شعر کندہ تھا کہ ؎
فِی الْجُبْنِ عَارٌ وَفِی الْاِقْبَال مَکْرُمَۃٌ
وَالْمَرْءُ بِالْجُبْنِ لاَ یَنْجُوْ مِنَ الْقَدْرٖ
یعنی بزدلی میں شرم ہے اور آگے بڑھ کر لڑنے میں عزت ہے اور آدمی بزدلی کرکے تقدیر سے نہیں بچ سکتا۔تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے یہ سن کر بہت سے لوگ اس سعادت کے لئے لپکے مگر یہ فخر و شرف حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نصیب میں تھا کہ تاجدار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنی یہ تلوار اپنے ہاتھ سے حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں دے دی۔ وہ یہ اعزاز پا کر جوشِ مسرت میں مست و بے خود ہو گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ ’’تو اس سے