Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
236 - 479
سرکار کا دھاری دار سرخ عمامہ 
 	حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا  عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ قِطْرِیَّۃٌ فَاَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَۃِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَاْسِہِ وَلَمْ یَنْقُضِ الْعِمَامَۃَ یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے قِطری عمامہ شریف باندھ رکھا تھا، پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنا دستِ مبارک عمامہ شریف کے نیچے داخل کر کے سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا اور عمامے شریف کو سرِاقدس سے نہیں اتارا۔ (ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)
	شارح بخاری،  علّامہ بدرُ الدِّین عینی حنفی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی حدیثِ پاک کے اس حصے ’’عِمَامَۃٌ قِطرِیَّۃٌ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ہِیَ ثِیَابٌ حُمْرٌ لَہَا اَعْلَامٌ فِیْہَا بَعْضُ الخُشُوْنَۃِ یعنی (قطری عمامے سے مراد) ایسا دھاری دار سرخ کپڑا ہے کہ جس میں کچھ کھردرا پن ہوتا ہے۔ یہ عمان اور سیف البحر کے درمیانی علاقے ’’قطر‘‘ کی جانب منسوب ہے ۔ 
(شرح ابی داؤد ، باب المسح علی العمامۃ، ۱/۳۴۷، تحت الحدیث: ۱۳۶) 
صحابۂ کرام کے سرخ عمامے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں