قادری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے تھے ایک روز میرے دل میں خیال آیا :’’ میں حضرت سیّدنا غوث الاعظم عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الاَکرَم سے ارادات وعقیدت رکھتا ہوں ، یقیناً وہ بھی میری اس ارادات مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں او ر میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی ستر پوشی کروں گا۔ ‘‘رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں ، سرننگا ہے، اسی وقت حضرت غوثُ الثَّقَلَین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی، اور ارشاد فرمایا:’’ یہ پگڑی (عمامہ) لے لو، ہم تمہارے اس حال سے خبردار تھے کہ تم ننگے سر کھڑے ہو۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ تمہار ا سر ڈھانپ دیں۔‘‘ صبح حضرت شاہ اَبوُالمَعَالی (سیدخیرالدین قادری) عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْغَنِی نے مجھے اپنے پاس بلایا، اور سفید دستار عنایت کرکے فرمایا:’’ یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرتِ غوث الاعظم عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الاَکرَم نے تمہیں عطا فرمائی تھی۔‘‘ (خزینۃ الاصفیاء ، ۱ /۲۳۰)
دھاری دار سرخ عمامہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے دیگر رنگ کے عماموں کے ساتھ ساتھ بسا اوقات سرخ دھاری دار عمامے کو بھی سرِ انور کی برکتیں لوٹنے کا شرف عطا فرمایا ہے چنانچہ