Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
233 - 479
ط{2}حافظ جمال اللہ ملتانی کا سفید عمامہ 
	قُطبُ العارِفِین،تاجُ الاصفِیائ، جمالُ الاولیائحضرت حافظ شاہ محمد جمالُ اللہ ملتانی چشتی(1)   رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سفید دستار (یعنی عمامہ ) شریف باندھتے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان ، ۱/۳۶۴) 
{3}پیر مہر علی شاہ صاحب کا سفید عمامہ
	قائدِ تحریکِ ختمِ نبوت ، تاجدارِ گولڑہ ، قبلۂ عالم حضرت علّامہ پیرسیّد مہرعلی شاہ چشتی قادری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے عمامہ شریف کے متعلق ہے کہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سفید ململ کی ہلکی مایہ لگی ہوئی پگڑی ( یعنی عمامہ شریف ) پہنتے تھے۔ دستار مبارک بخاری قسم کی نوکدار کلاہ پر بندھی ہوتی تھی۔ بعض اوقات دھوپ میں پگڑی (یعنی عمامہ) اور دوش مبارک پر لُنگی یا چادر ڈال لیتے تھے۔ (مہرِمنیر ، ص۳۱۶) 
{4}امامِ حرم کا سفید عمامہ
	مُقَرِّّظِ حُسَامُ الحَرَمین(2) ، شیخ الاسلام ، مفتیٔ شافعیّہ (زمانۂ اعلیٰ حضرت کے) امامِ حرم شیخ محمد سعید بابصیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سادہ لباس زیبِ تن فرماتے اور سر پر ہمیشہ سفیدعمامہ سجاتے۔ (امام احمد رضامحدّث بریلوی اورعلماء مکّہ مکرّمہ ، ص ۲۷۳)


1…خلیفۂ مجاز حضرت خواجہ نور محمد چشتی مہاروی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی 
2…یعنی حُسَامُ الحرمین کی تائید اور اس کے مصنف اعلیٰ حضرت کی تعریف کرنے والے۔